تحریک انصاف الیکشن جیت گئی تو وہ مغربی روٹ کو فوقیت دے گی،گلوبل ٹائمز


اسلا م اآباد(احتساب نیوز)نواز شریف کی نا اہلی کے بعد سی پیک منصوبے پر غیر یقینی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔چینی اخبار ’’گلوبل ٹائمز‘‘ پر شائع کئے گئے آرٹیکل میںکہا گیا ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت چین مخالف جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرتی، تمام سیاست دان چین کے ساتھ دوستانہ اور بہترین تعلقات کے حامی اور اس کو فروغ دینے کے نظریات رکھتے ہیں تاہم سی پیک کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی جماعتیں تقسیم ہیں، سی پیک کے دو روٹس ہیں جن میں سے ایک روٹ ’’مشرقی‘‘ جبکہ دوسرا ’’مغربی‘‘ ہے۔ سی پیک کا مشرقی روٹ پنجاب اور سندھ سے گزرتا ہے اور زیادہ فائدہ انہی دو صوبوں کا ہے جبکہ مغربی روٹ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ سے گزرنا ہے۔ بعض سیاست دان مشرقی روٹ جبکہ چند مغربی روٹ کے حامی ہیں۔نواز شریف سی پیک کے مشرقی روٹ کے حامی ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں مغربی روٹ کو فوقیت دیتے ہیں۔نواز شریف کی نا اہلی کے بعد اگر مسلم لیگ(ن) 2018ئکے انتخابات میں کامیاب نہ ہوئی تو سی پیک کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے لیکن اگر اگلے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ جیت جاتی ہے تو سی پیک کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات ختم ہوجائیں گے کیوں کہ دونوں پارٹیاں سندھ اور پنجاب کی جماعتیں ہیں اور وہ مشرقی روٹ ہی کی حامی ہیں لیکن تحریک انصاف اگر الیکشن جیت گئی تو وہ مغربی روٹ کو فوقیت دے گی



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں