داعش کے لوگ موبائل فون کے استعمال سے کنواری لڑکیاں خریدتے ہیں،رپورٹ


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شدت پسند تنظیم داعش کے دہشت گردایک موبائل فون ایپ کا استعمال کرتے ہیں جس کی مدد سے وہ نو عمراور ایسی کنواری لڑکیاں خریدتے ہیں،دی مرر کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں داعش کی قید سے فرار ہونے والی کچھ لڑکیوں نے بتایا ہے کہ انہیں ایک بڑے گھر، کار، مفت میڈیکل خدمات، خدمت گاروں اور زندگی کی دیگر آسائشوں کا خواب دکھا کر شام لیجایا گیا تھا لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں کئی کئی بار بیچا اور خریدا گیا اور متعدد جنگجوں نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہیں بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا جبکہ ان میں سے اکثر کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو اپنے سامنے قتل ہوتے بھی دیکھا۔لڑکیوں نے بتایا کہ ان کے جنگجو خاوند انہیں چھوڑ کر آئے روزنئی لونڈیاں خریدنے میں مصروف رہتے تھے۔ وہ لوگ اس مقصد کیلئے ایک موبائل فون ایپ کا استعمال کرتے ہیں جس پر ہر عمر کی لڑکیاں فروخت کے لئے دستیاب ہوتی ہیں۔ اس ایپ کے ذریعے اغواکی گئی ہر عمر کی لڑکیاں بیچی جاتی ہیں۔ عام طور پر کنواری اور کم عمر لڑکیوں کی قیمت 10 ہزار ڈالر (تقریبا 10لاکھ پاکستانی روپے) تک ہوتی ہے۔داعش سے نجات پانے والی کچھ لڑکیوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے جنگجو خاوند انہیں تو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے تھے لیکن نئی خریدی گئی لونڈیوں کے میک اپ اور لباس پر دل کھول کر رقم لٹاتے تھے۔ جب چند ماہ بعد اس لونڈی سے بھی دل بھرجاتا تو وہ اسے چھوڑ کر ایک بار پھر موبائل ایپ کا رخ کرتے تھے تاکہ اپنی جنسی تسکین کیلئے ایک اور لڑکی خرید لائیں۔داعش کے جنگجوں کی دلہنیں بننے والی اکثر لڑکیوں کا تعلق مغربی ممالک سے تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں