بنی گالہ اراضی کی خریداری میں خلا ہیں،چیف جسٹس


اسلام آباد: (نیوز ایجنسی) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا عمران خان نے اہلیہ سے 4 کروڑ روپے قرض لیا جسے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا گیا، ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں فلیٹ کی رقم 20 لاکھ روپے بتائی گئی جبکہ وہی فلیٹ 8 سے 9 کروڑ روپے میں فروخت کیا گیا۔ جس پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان نے فلیٹ کی قیمت خرید ایمنسٹی سکیم میں بتائی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیا عمران خان نے قرض کی رقم ادا کرنے کو گوشواروں میں ظاہر کیا؟۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا بنی گالہ اراضی کی خریداری میں خلا ہیں، راشد خان کے اکاو¿نٹ میں رقم منتقلی کی دستاویزات کہاں ہیں؟، عمران خان نے تحریری جواب میں بے نامی جائیداد خریدنے کے الزام کی تردید نہیں کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 ستمبر تک کے لئے ملتوی کر دی۔سپریم کورٹ مین چیف جسٹس نے عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت کی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت 26ستمبر تک ملتوی کر دی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت کی گئی۔کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کے دلائل سنے۔اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری سے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ جو رقم لی گئی ہ قرض تھی۔اگر یہ قرض تھی توکیا عمران خان نے 2002کے الیکشن میں کاغذات نامزدگی میں یہ رقم بطور قرض ظاہر کی تھی۔اس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 2002کے کاغذات نامزدگی میں بنی گالہ کی جائداد جمائما خان کے نام تھی۔اس موقع پر جسٹس عمر عطاءکا کہنا تھا کہ 2002میں فلیٹ بیچا کیا وہ کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ لندن ایمنسٹی فلیٹ کی مالت 20لاکھ ظاہر کی گئی تھی۔اس پر تعیم بخاری کا کہنا تھا کہ یہ جائیداد بیوی کے نام پر کی گئی۔ اس موقع پر مخالف وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے5رکنی بنچ نے قوم کے لیے ایک قانون طے کرلیا ہے فیصلے کے مطابق میاں بیوی اور باپ بیٹے کو الگ نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ عمران خان کے 1997 کے کاغذات نامزدگی کا رکارڈ منگوائے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 26ستمبر تک ملتوی کر دی



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں