اپنے قریبی رشتہ داروں میں شادی کیوں نہیں کرنی چاہئے،اس کا کیا نقصان ہے


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سائنسدانوں نے ایک تحقیق کے دوران روس سے دریافت ہونے والے 34 ہزار سال پرانے انسانی ڈھانچوں کا جینیاتی تجزیہ کیا جس سے یہ نتائج اخذ کئے گئے ہیں کہ اس دور کا انسان بھی جینیاتی بگاڑ سے بچنے کے لئے قریبی رشتوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار نہیں کرتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور میں جوڑوں کی تدفین عام طور پر ایک دوسرے کے قریب کی جاتی تھی۔ ماہرین نے جوڑوں کی صورت میں دفن کئے گئے مردوں اور عورتوں کے جینز کا مطالعہ کرکے معلوم کیا ہے کہ ان میں سے ہر جوڑے کا جینیاتی لحاظ سے قریبی تعلق نہیں تھا۔ وہ کم از کم بھی ایک دوسرے کے سیکنڈ کزن تھے۔تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان پروفیسر ایس کے ویلرسلیپ کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ پتھر کے زمانے کا انسان بھی اس حقیقت کو سمجھتا تھا کہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلق نسلی جنسی بگاڑ کا سبب بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایسی موروثی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں جو نسل انسانی کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہیں، لہٰذا اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔ اس دور کے لوگ عام طور پر 20 سے 25 افراد کے گروپ کی صورت میں رہا کرتے تھے اور ایک گروپ کے افراد آپس میں جنسی تعلق استوار کرنے کی بجائے کسی دوسرے گروپ کے افراد کی تلاش کیا کرتے تھے۔اس کے برعکس تقریباً 50 ہزار قدیم دور کے نی اینڈر تھل انسان کے جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان لوگوں میں قریبی رشتوں کے ساتھ جنسی تعلق کا رواج پایا جاتا تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں