کالا باغ ڈیم نہ بنے،چند سیاستدان بھارت سے ہر سال کتنے ارب روپے لے رہے ہیں؟نیا انکشاف


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدرکہتے ہیں کہ بھارت کالا باغ ڈیم کے راستے کی رکاوٹ بننے والوں کو سالانہ 18ارب روپے تقسیم کررہا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوںنے بتایا ہے کہ کالا باغ ڈیم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن بے مثال منصوبہ ہے لیکن کچھ لوگ اس کا نام

سنتے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے اس کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔انھوںنے بتایا کہ انگلی پر گنے جانے والے یہ چند لوگ اس بے وجہ اور بے منطق ہٹ دھرمی اور بدمعاشی کے عوض بھارت سے سالانہ اربوں روپے لے رہے ہیں۔انھوںنے بتایا کہ بھارت کالا باغ ڈیم کے راستے کی رکاوٹ بننے والوں کو سالانہ 18ارب روپے تقسیم کررہاجب کالاباغ ڈیم بنانے کی بات ہوئی تو اس کی لاگت 28ارب روپے تھی اور اس سے سالانہ 33ارب روپے آمدن متوقع تھی۔ اس سے حاصل شدہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 50پیسے سے زیادہ نہ ہوتی اور لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آتے۔بارشوںکی صورت میں سیلاب کی بجائے اس ڈیم کی بدولت پاکستان لاکھوں کیوسک پانی ذخیرہ کرکے اپنی 60لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو بھی قابل کاشت بنا سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی اس بارے میں کوئی کمیٹی تشکیل دی جائے تو عام لوگوں میں شعور بیدار کرکے ڈیم کی تعمیر کی راہ کو ہموار کیا جاسکتا ہے۔ یہ چند لوگ اس بے وجہ اور بے منطق ہٹ دھرمی اور بدمعاشی کے عوض بھارت سے سالانہ اربوں روپے لے رہے ہیں۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں