اصغر خان نے آپریشن جبرالٹر میں فضائیہ کو اعتماد میں نہ لینے پرانہوں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)ائر مارشل اصغر خان پر قائد اعظم کا گہرا اثرا تھا۔پینسٹھ کی جنگ میں ائر مارشل اصغر خان کی ایک دھمکی نے دشمن کو میدان خالی کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔ائر مارشل اصغر خان نے اس وقت استعفیٰ دیا تھا جب آپریشن جبرالٹر میں فضائیہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا توانہوں نے

احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔ائر مارشل اصغر خان پر پاک فضائیہ کے معروف محقق سلطان محمود حالی نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ائر مارشل اصغر خان پر ایسے گھناونے الزامات لگا کر انکی گراں خدمات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے پینسٹھ کی جنگ اور ائر مارشل اصغر خان کے استعفٰی کے حوالہ سے لکھا”ائر مارشل اصغر خان نے اپنے سے پانچ گنابڑی فضائیہ پہ تابڑ توڑ حملے کرکے دشمن کے دانت کھٹے کردئیے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ23جولائی1965کو ائرماشل اصغر خان کو جب علم ہوا کہ فوج کے کچھ دستے مقبوضہ کشمیر میں”آپریشن جبرالڑ“کے نام سے خفیہ آپریشن کررہے ہیں، تو انہوں نے احتجاج کیا کہ پاک فضائیہ سے اس آپریشن کو صیغہ راز میں کیوں رکھا گیا۔ انہوں نے اپنا استعفے ٰ پیش کردیاتھا۔ ارجن سنگھ جواصغر خان کے عزم ،ہمت اور استقلال جیسی خوبیوں سے واقف تھے، نے فوراً اپنے پاکستانی ہم منصب کی رائے پر عمل کیا اور یوں پاک فوج بھارتی فضائیہ کے حملوں سے رن آف کچھ کے محاذ پہ محفوظ رہی۔ بدقسمتی سے بعد میں آنے والے پاک فوج کے ایک سپہ سالار نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ ائرمارشل اصغر خان کو دشمن سے ساز باز کرنے اور ملک سے غداری کرنے پرپاک فضائیہ سے نکال دیا گیا۔ یہ حقیقت کے بالکل بر عکس ہے ۔ 6ستمبر1965 کو جب بھارت نے پاکستان پہ حملہ کیا تو پاک فضائیہ جسے اصغر خان نے نے اپنی جان پر کھیل کر ملک کو بچایا۔“



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں