پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی نے کھلاڑیوں کی فہرست کی منظوری دے دی


ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ہارون رشید، قومی چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر پر مشتمل سینٹرل کنٹریکٹکمیٹی نے تجاویز اور سفارشات پیش کیں اور پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی نے کھلاڑیوں کی فہرست کی منظوری دے دی۔ پی سی بی اور کھلاڑیوں کے درمیان 3سالہ مالیاتی فارمولہ ترتیب دیا گیا تھا اور 18-2017 کے مالی سال کے اختتام کے ساتھ ہی وہ اختتام

پذیر ہو گیا تھا۔ کھلاڑیوں کے نمائندوں کے طور پر کپتان سرفراز احمد اور سینئر کھلاڑی شعیب ملک نے بورڈ سے مذاکرات کیے جس کے بعد باہمی رضامند ی سے 3سالہ نیا معاہدہ طے پا گیا۔ بورڈ نے مختلف کیٹیگریز میں کھلاڑیوں کے ماہانہ معاوضے میں 25-30فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ تمام کیٹیگریز کے لیے میچ فیس میں بھی 20فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں معاہدے میں دوسرے اور تیسرے سال کے دوران ایک مخصوص شرح سے کھلاڑیوں کے معاوضے اور میچ فیس میں اضافے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ پی سی بی نے ڈومیسٹک سطح پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک نئی کیٹیگری ‘ای’ کا اعلان کیا ہے تاکہ نئے ٹیلنٹ کو سراہا جا سکے۔ نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں تجربہ کار محمد حفیظ اے کیٹیگری میں جگہ بنانے میں ناکام رہے اور مستقل ناقص کارکردگی اور باؤلنگ ایکشن کے مسائل کے سبب انہیں بی کیٹیگری میں جگہ ملی ہے البتہ بابر اعظم پہلی مرتبہ اے کیٹیگری میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ڈوپ ٹیسٹ مسائل اور خراب فارم کا شکار احمد شہزاد سینٹرل کنٹریکٹ حاصل نہ کر سکے جبکہ عمر اکمل لگاتار دوسرے سال سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں جگہ نہ بنا سکے۔ فخر زمان، شاداب خان اور فہیم اشرف کو عمدہ کارکردگی پر بی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں